ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 12 ارکان کی معطلی واپس لینے کے مطالبے پر قائم رہا اپوزیشن، راجیہ سبھاکی کاروائی دن بھرکیلئے ملتوی

12 ارکان کی معطلی واپس لینے کے مطالبے پر قائم رہا اپوزیشن، راجیہ سبھاکی کاروائی دن بھرکیلئے ملتوی

Mon, 06 Dec 2021 22:56:05    S.O. News Service

نئی دہلی، 6 دسمبر (آئی این ایس انڈیا) راجیہ سبھا کا اجلاس پیر کی شام چار التوا کے بعد اپوزیشن ارکان کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے معطل کئے گئے 12 ارکان کی معطلی کو واپس لینے کے مطالبے پر تقریباً 4.10 بجے پورے دن کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان بالا میں آج وقفہ صفر اور وقفہ سوال نہیں ہوسکا۔چاربار ملتوی ہونے کے بعد جب میٹنگ شام 4 بجے شروع ہوئی تو ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ ناگالینڈ میں فائرنگ کے واقعہ پر بیان دیں گے۔ وزیر داخلہ شاہ نے ناگالینڈ میں سیکورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ میں 14 افراد کی موت کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تفصیلی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے اور تمام ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو۔لوک سبھا میں بھی وزیر داخلہ نے یہی بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کو ایک ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کو کہا گیا ہے۔ شاہ کے بیان کے دوران اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ آرائی کی اور 12 معطل ارکان کی معطلی منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔شاہ نے کہا کہ انہوں نے ناگالینڈ کے گورنر اور وزیراعلی سے بات کی ہے اور حالات کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ وزیر داخلہ کے بیان کے بعد ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے اراکین سے وضاحت مانگنے کو کہا۔ انہوں نے راشٹریہ جنتا دل کے منوج کمار جھا کا نام لیا۔تاہم ہنگامہ نہ رکنے کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نے اجلاس دن بھر کیلئے 4.10 بجے کے قریب ملتوی کردیا۔قبل ازیں صبح 11 بجے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس شروع ہونے کے دس منٹ بعد دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔میٹنگ کے آغاز پر چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھ دیا۔ اس کے بعد ایوان میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رکن ملکاارجن کھڑگے نے ناگالینڈ میں فائرنگ کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت سنگین واقعہ ہے اور وزیر داخلہ کو اس پر ایوان میں بیان دینا چاہئے۔


Share: